16 جون 2010 - 19:30

پشاور سے دو ہزار آٹھ میں اغوا کئے جانے والے ایرانی سفارتکار کو بازیاب کرالیا گیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پشاور سے دو ہزار آٹھ میں اغوا کئے جانے والے ایرانی سفارتکار کو بازیاب کرالیا گیا۔

وزیر اطلاعات نے منگل کے دن اپنے ایک بیان میں انکشاف کیا کہ پاکستان میں ۲۰۰۸ کو پاکستان کے شہر پشاور سے اغوا ہونے والے ایرانی کمرشل اتا شی حشمت اللہ اطہر زادہ کو بازیاب کر لیا گیاہے


انھوں نے مزید بتایا کہ ایرانی کمرشل اتاشی کو اغوا کرنے والوں کو امریکہ اور موساد کا تعاون حاصل تھا اور  پاکستانی حکومت سے ایرانی کمرشل اتاشی کی بازیابی میں مدد کی درخواست کی گئ جس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلا۔ جنداللہ کے سربراہ ریگی کی گرفتاری کے بعد سربازان امام زمانہ (عج)کی یہ دوسری بڑی کامیابی ہے۔جبکہ ہمسایہ ممالک کو انھوں نے خبرادر کیا کہ امریکہ اور موساد اس علاقے میں بد امنی پھیلانا چاہتے ہیں لہذا ان سے تعاون نہ کیا جاۓ

 پشاور میں ایرانی قونصل خانے نے بازیابی کی تصدیق کردی ہے اور بتایا ہے کہ حشمت اللہ اطہر زادے ایران پہنچ گئے ہیں۔ ایرانی کمرشل اتاشی کو نومبر دو ہزار آٹھ میں پشاور کے علاقے حیات آباد سے گھر سے دفتر جاتے ہوئے اغوا کیا گیا تھا۔ اغوا کنندگان کی فائرنگ سے ایرانی سفارت کار کا محافظ شہید ہوگیا تھا۔

........

وزیر اطلاعات جناب حجت الاسلام و المسلمین حیدر مصلحی کی پریس کانفرنس:

ایران کی وزیر اطلاعات جناب حجت الاسلام و المسلمین حیدر مصلحی نے کہا: امام زمانہ (ع) کے گمنام سپاہیوں نے اپنے سفارتکار کو رہا کرواکر امریکہ اور موساد کو حیرت زدہ کردیا ہے جبکہ حشمت اللہ اطہر زادہ کو اغوا کرنے والے گروپ کو امریکہ اور موساد کی حمایت حاصل تھی اور جس پیچیدہ کاروائی میں انہیں رہا کرایا گیا ہے اس نے امریکہ اور صہیونی ریاست کے جاسوسی نظام کو حیران و پریشان کردیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ انسانی حقوق کا دفاع کرنے کی دعویدار عالمی تنظمیں اسلامی ممالک میں تعینات ہوگئی ہیں اور ہم اسلامی ممالک کو خبردار کرتے ہیں کہ انسانی حقوق کی حفاظت کے یہی دعویدار ان ممالک میں امن و امان کی تباہی کے ذمہ دار ہیں اور علاقے کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچارہے ہیں.
انھوں نے کہا کہ امریکی استکبار اور صہیونی ریاست اور یورپ کے جاسوس ادارے بے بنیاد بہانوں سے علاقے کے ممالک میں ڈیرہ ڈال چکے ہیں اور ان کی موجودگی علاقے میں ناامنی کے سوا کسی بھی مثبت نتیجی پر منتج نہیں ہوئی ہے۔ 
کونسلیٹ جنرل اسلامی جمہوریہ ایران، پشاور کے کمرشل اتاشی کو 2008 میں ان کی رہائشگاہ کے سامنے سے اغوا کیا گیا تھا اور ان کے ذاتی محافظ سجاد شاہ کو شہید کردیا گیا تھا۔ امریکہ اور موساد کا حمایت یافتہ گروہ ۔ جس نے انہیں اغوا کرلیا تھا ۔ اسلامی جمہوریہ ایران کو بلیک میل کرنا چاہتا تھا مگر ایران نے ان کے کسی بھی مطالبے کو بھی لائق اعتنا نہ سمجھا۔
انھوں نے کہا کہ آس پاس کے ممالک کے پاس زبردست انٹیلجنس ادارے ہیں مگر وہ موساد اور موساد کے مشابہ اداروں کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں اور ہم نے بامر مجبوری عطارزادہ کی رہائی کے لئے خود ہی اقدام کیا۔ 
جناب مصلحی نے کہا: ایرانی سفارتکار کو ایک پیچیدہ انٹیلجنس کاروائی کے نتیجے میں بازیاب کرایا گیا اور وقت آنے پر اس پیچیدہ کاروائی کی تفصیلات کا اعلان بھی کیا جائے گا۔ 
انھوں نے موساد اور امریکی جاسوسی ایجنسیوں کے ساتھ خطے کے بعض ممالک کے اداروں کے تعاون پر افسوس ظاہر کیا اور کہا: اسلامی جمہوریہ ایران پوری طاقت سے بیرونی ایجنسیوں کی ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا مقابلہ کرے گیا اور ان کی سازشوں کو ناکام بنائے گا۔
انھوں نے کہا: ہم خطے میں اجنبی جاسوسی اداروں کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کررہے ہیں اور خطے کے ممالک کو جان لینا چاہئے کہ اجنبی ممالک ـ خاص طور پر امریکہ، صہیونی ریاست اور برطانیہ ـ کی ایجنسیوں کی موجودگی کا مقصد ان ممالک کے مفادات کی حفاظت نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ بیرونی ایجنسیاں علاقے کے امن کو تباہ کرنی کے درپے ہیں اور ایسے حال میں جب امریکہ اور یورپ کے درمیان مذہبی اختلافات بہت وسیع اور گہرے ہیں مگر وہ مل کر علاقے میں مذہبی تفرقہ انگیزی پھیلاتے ہیں اور خطے کے مسلمانوں کو برادرکشی پر وادار کررہے ہیں جس سے ہمیں ہوشیار رہنا ہے۔

.........

/ 152 ـ 110